اسرائیل اور ایران کی جنگ 12 دن بعد ختم،
اہم نکات سامنے آگئے
Junior Reporter and Writer at Al Jazeera Turkey / Maiza Abdul Hamid Khan Benori
اسرائیل اور ایران کے درمیان اچانک شروع ہونے والی جنگ صرف 12 دن میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران دونوں ملکوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کیا اور اعلان کیا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام، میزائل سسٹم اور حکومت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
امریکا نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا اور اپنے بی-2 طیاروں سے ایران کے ایٹمی مراکز، جیسے فردو اور نطنز، پر بمباری کی۔ جواب میں ایران نے بھی امریکی اڈوں اور اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائل داغے۔
اہم واقعات:
-
ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ نہیں ہو سکا۔ امریکی رپورٹ کے مطابق ایران چند مہینوں میں اپنی تنصیبات کو دوبارہ بنا سکتا ہے۔
-
ایرانی میزائل نہایت خطرناک اور درست ثابت ہوئے۔ اسرائیل کے دفاعی نظام ناکام ہو گئے، اور اسرائیل کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
-
ایرانی عوام نے اپنی حکومت کا ساتھ دیا اور اسرائیل کا مقابلہ کیا، جس سے نیتن یاہو کا مقصد حکومت گرانے کا پورا نہ ہو سکا۔
جنگ کیوں رکی؟
جنگ کو روکنے میں سب سے اہم کردار امریکی صدر ٹرمپ نے ادا کیا۔ انہوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ جنگ بند کرے، تاکہ خطہ مزید تباہی سے بچ سکے۔ اگر جنگ جاری رہتی تو ایران مضائقہ ہرمز بند کر سکتا تھا، جس سے دنیا بھر میں تیل کی فراہمی متاثر ہوتی۔
ایران کو کن مشکلات کا سامنا تھا؟
-
ایران کو جنگ کا پہلے سے علم نہیں تھا۔
-
اسرائیل کے ایجنٹ ایران کے اندر بھی سرگرم تھے۔
-
روس نے ایران کو فوری دفاعی مدد فراہم نہیں کی۔






0 Comments